میرٹ کا بول بالا
سکول انفارمیشن سسٹم (SIS) جو کہ سفارش اور رشوت کے بغیر میرٹ پر ٹرانسفر/پوسٹنگ کےلئے بنایا گیا تھا۔ اس کو اساتذہ کی حق تلفی کےلئے استعمال کیا جا رہا ھے۔ ارباب اختیار نے ایک طرف لمبے عرصے سے پروموشن ایڈجسٹمنٹ یا ٹرانسفر کو یہ کہہ کر روکا ہوا ہے۔
SIS کے زریعے میرٹ پر ٹرانسفر/پروموشن ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ تو دوسری طرف کبھی ایکسٹریم ہارڈ شپ کے نام پر اور کبھی ایڈمنسٹریٹو گراؤنڈ کو استعمال کرکے من پسند کھیل کھیلا جارہا ھے۔ اساتذہ کرام پچھلے 6 ماہ سے ایڈجسٹمنٹ کے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔
کہ اور منہ میں انگلیاں دبائے یہ سوچنے پر مجبور ہیں۔ کہ یہ کونسی تبدیلی ہے۔ جس کے چرچے پچھلے 4 سال سے کئے جا رہے ہیں۔ ہر ماہ SIS کو کھولنے کی نئی تاریخ دے کر اساتذہ کو چپ کروا دیا جاتا ھے۔ جبکہ دوسری طرف سفارش اور رشوت کی بنیاد پر ٹرانسفر کا سلسلہ برق رفتاری سے جاری ہے۔
جو ٹرانسفر پہلے تھوڑی سی سفارش کروا کر ہو جاتا تھا وہی ٹرانسفر اب 2 سے 3 لاکھ رشوت دے کر ہو رہا ہے ساتھ میں ایم پی اے ، ایم این اے کی منتیں الگ سے کرنی پڑتی ہیں۔ یہ ہے وہ تبدیلی جس کی تعریفیں وزیر تعلیم محترم مراد راس صاحب ہر پریس کانفرس میں ببانگ دہل کرتے ہیں۔
گر ایڈمنسٹریٹو گراؤنڈ سے ہی ٹرانسفر پوسٹنگ کا سلسلہ جاری رکھنا ھے۔ تو SIS کو بند کر دیا جائے۔ کیونکہ شہر کی تمام سیٹس تو ان ٹرانسفر سے پر ہو چکی ہیں۔پروموشن والوں کو سیٹیں کدھر سے دی جائیں گی۔
ارباب اختیار سے مطالبہ ہے۔ کہ پروموشن اور ایڈجسٹمنٹ کے انتظار میں بیٹھے اساتذہ کرام کا مذید امتحان نہ لیا جائے۔ اور سفارش و رشوت پر مبنی ایڈمنسٹریٹو گراؤنڈ کو بند کرکے SIS کو فی الفور تمام اساتذہ کرام کےلئے کھولا جائے۔
دعا! اللہ پاک تمام اساتدہ اکرام کے تمام مسائل حل فرمائے اور اس ملک کی سلامتی کے لئے یہ دل لگا کر کام کرتے رہیں اس ملک کو اساتدہ اکرام کی بدولت ، داکٹر، انجینئر، بزنس میل، جج، وکیل، پولیس مین ، بے شمار محکماجات سے ملے گئے ۔

No comments:
Post a Comment